شیخ الازہر نے "امام الطیب" اسکول کے طلباء سے ملاقات کی اور قرآنِ کریم کو دس قراءتوں کے ساتھ حفظ کرنے میں ان کی مہارت کی تعریف کی۔
شیخ الأزہر "امام الطیب" اسکول کے طلباء سے ملاقات کی اور انہیں قرآنِ کریم حفظ کرنے اور اس کے معانی کو سمجھنے میں محنت جاری رکھنے کی نصیحت کی۔
امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخ الازہر شریف، ، نے بروز بدھ مشیخۃ الأزہر میں "امام الطیب" اسکول میں قرآن کریم کے حفظ و تجوید کے لیے داخل ہونے والے طلباء کے ایک گروپ سے ملاقات کی، جس میں اسکول کے کئی قائدین، اساتذہ اور منتظمین بھی موجود تھے۔
شیخ الازہر نے اپنے طلباء بیٹوں کو خوش آمدید کہا اور "امام الطیب" اسکول کے ممتاز طلباء، جو قرآن کریم کے حافظ ہیں، سے ملاقات پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن کریم کے حفظ میں دلچسپی رکھنا نوجوانوں کی ایک نئی نسل کی تعمیر کا بنیادی ستون ہے، جو خیر، رحمت اور امن کا پیغام دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسلام کے پیغام کا جوہر ہے۔ یہی وجہ سے اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ امت کا مستقبل محفوظ رہے گا، جب تک کہ ایسے افراد موجود ہیں جو خلوص اور محنت کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیم حاصل کریں، اسے حفظ کریں اور علومِ قرآن میں مہارت حاصل کریں، تاکہ یہ ان کے لیے ایک قلعہ اور انتہاپسندی سے بچاؤ کا ذریعہ بنے۔
شیخ الأزہر نے "امام الطیب" اسکول کے ممتاز طلباء کی طرف سے دس قراءات کے ساتھ کی گئی شاندار قرآنی تلاوتیں سنی اور ان کی قرآن کریم حفظ کرنے کی مہارت کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مہارت اسکول کے اساتذہ اور ذمہ داران کی لگن اور محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اپنا وقت اور توانائی صرف اس مقصد کے لیے وقف کی ہے۔ شیخ الأزہر نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ صرف حفظ پر اکتفا نہ کریں بلکہ قرآن کریم کے معانی اور تفسیر کو سمجھنے میں بھی محنت جاری رکھیں، تاکہ مستقبل میں وہ اپنے ملکوں میں الازہر کے سفیر بن سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ازہر شریف ہمیشہ ان کی ہر ممکنہ مدد کے لیے تیار رہے گا۔
دوسری جانب، "امام الطیب" اسکول کے طلباء نے امام اکبر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسکول نے انہیں دس قراءات کے ساتھ قرآن کریم حفظ کرنے میں بڑی سہولت فراہم کی، جس میں معیاری اساتذہ اور بھرپور تعاون شامل تھا۔ انہوں نے ازہر شریف اور امام اکبر کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں قرآن کے حافظ بننے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے۔