شیخُ الازہر کی قاہرہ میں قازقستان کے سفیر سے ملاقات، علمی و دعوتی تعاون کے فروغ پر زور
عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخُ الازہر شریف نے قاہرہ میں جمہوریہ قازقستان کے سفیر، عسکر جينيس کا استقبال کیا۔ ملاقات میں ازہر شریف اور جمہوریہ قازقستان کے درمیان علمی، دعوتی اور ثقافتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخُ الازہر نے اس موقع پر ازہر اور قازقستان کے درمیان قائم گہرے اور مستحکم تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ روابط اُن قازق طلبہ کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے ہیں جو ازہر میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں، نیز دونوں جانب سے علمی کانفرنسوں اور فکری سیمیناروں میں شرکت کے لیے ہونے والے باہمی دوروں نے بھی ان تعلقات کو استحکام بخشا ہے۔ خصوصا عالمی و روایتی مذاہب کے قائدین کی بین الاقوامی کانفرنس” کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم بین المذاہب مکالمے اور عالمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم عالمی فورم بن چکا ہے۔
امام اکبر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ازہر شریف قازقستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ اس ضمن میں قازق طلبہ کے لیے جامعۂ الازہر میں تعلیمی وظائف کی تعداد بڑھانے، قازق ائمہ و خطباء کو “الازہر عالمی اکیڈمی برائے تربیتِ ائمہ و واعظین” میں تربیت فراہم کرنے، اور اُن کی علمی و فکری صلاحیتوں کو معاصر مسائل کے حوالے سے مزید نکھارنے کے اقدامات شامل ہیں۔ آپ نے خاص طور پر بقائے باہمی، خواتین کے حقوق اور دیگر اہم عصری موضوعات پر اسلامی نقطۂ نظر کی متوازن تفہیم کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب، قازق سفیر نے شیخُ الازہر کو عیدالاضحی کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ یہ مبارک ایام امام اکبر اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر، امن اور سلامتی کا پیغام بنائے۔ انہوں نے جمہوریۂ قازقستان کے صدر، جناب جومارت توكاييف کی جانب سے بھی شیخُ الازہر کے لیے نیک تمنائیں اور دلی سلام پیش کیے، اور اُن کی صحت و عافیت کے لیے دعا کی۔قازق سفیر نے مزید کہا: کہ ہم گزشتہ ستمبر میں منعقدہ روایتی مذاہب کی کانفرنس میں مصری وفد کی شرکت پر آپ کے شکر گزار ہیں، اور قازق طلبہ کی سرپرستی و رہنمائی پر بھی آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جامعۂ الازہر میں تعلیم حاصل کرنا قازقستان کے نوجوانوں کے لیے ایک عظیم اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔