شیخ الأزہر نے پروفیسر فولکر کاؤڈر، جو جرمنی کی تھیولوجیکل یونیورسٹی میں اخلاقیات، سیاست اور مذہبی آزادی کے شعبے کے استاد ہیں سے ملاقات کی۔

شيخ الأزهر يستقبل البروفيسور فولكر كاودر.jpeg

شیخ الأزہر: "دستاویز برائے انسانی اخوت کو مذہب کی آواز میں لکھنے سے قبل انسانی آواز میں لکھا گیا ۔

پروفیسر فولکر کاؤڈر: "ہم شیخ الأزہر کی ان کوششوں کی قدر کرتے ہیں جو مذاہب کے درمیان مکالمہ کو فروغ دینے اور مثبت بقائے باہمی کے اصولوں کو مضبوط کرنے میں ہیں۔"

امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخ الازہر شریف نے پروفیسر فولکر کاؤڈر، جو جرمنی کے شہر گیسن کی تھیولوجیکل یونیورسٹی میں اخلاقیات، سیاست اور مذہبی آزادی کے استاد ہیں سے ملاقات کی۔


امامِ اکبر نے کہا کہ: الازہرِ شریف عالمی امن کے قیام کے لیے مذاہب کے درمیان مکالمے کو ایک اہم وسیلے کے طور پر بڑی اہمیت دیتا ہے؛ اسی لیے اس نے دنیا بھر کے ثقافتی اور مذہبی اداروں کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں۔ ہم نے کئی عالمی اقدامات کیے ہیں جن میں کینٹربری کیتھیڈرل، عالمی کلیسائی کونسل، مشرق وسطیٰ کی کلیساؤں کا کونسل اور واٹیکن شامل ہیں۔ یہ کوششیں تاریخی دستاویزِ انسانی بھائی چارے (Human Fraternity Document) کے دستخط کے ساتھ مکمل ہوئیں، جو پوپ فرانسس مرحوم کے ساتھ طے پائیں۔ ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ اعلیٰ درجے کے امن پسند انسان تھے اور ہم نے انسانیّت کے لیے مشترکہ کام کیا۔ آپ نے کہا کہ: 'دستاویزِ انسانی بھائی چارے کو پہلے انسان کی آواز میں لکھا گیا، اس سے پہلے کہ اسے مذاہب کی آواز میں لکھا جائے۔
شیخ الأزہر نے مزید کہا کہ: "اگرچہ الأزہر مذاہب کے درمیان مکالمے کی کوششوں کو جاری رکھنے پر زور دیتا ہے، مگر موجودہ جنگیں اور تنازعات ان کوششوں پر شدید اثر ڈال رہے ہیں، اور سب سے نمایاں اس میں غزہ پر حملہ ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم افراد بچے، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان جاں بحق ہوئے، جنہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا، بس اتنا کہ انہوں نے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کیا اور اپنے وطن کی مٹی سے چمٹے رہے۔ آپ نے اشارہ کیا کہ عالمی فیصلے اور ہتھیار اب غیر معقول لوگوں کے ہاتھ میں ہیں؛ اور یہ اس دنیا کے مستقبل کے لیے حقیقی خطرہ ہے، جسے یہ لوگ مزید جنگوں اور تنازعات کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہی معاصر انسان کا المیہ ہے، جس کی وجہ ایک ایسی تہذیب کی بالادستی ہے جو نہ خدا پر ایمان لاتی ہے اور نہ اقدار کی پابند ہے، اور ہتھیاروں کی معیشت پر قبضہ کر کے انسان کو ایک ایسی چیز میں بدل دیتی ہے جو خریدی اور بیچی جاتی ہے۔

اپنی طرف سے، پروفیسر فولکر کاؤڈر نے شیخ الأزہر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کی عالمی امن کے قیام اور انسانی بھائی چارے کی ثقافت کو فروغ دینے میں کی جانے والی کوششوں کی قدر کی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دنیا بھر کے مذہبی اداروں کی کوششوں کا یکجہتی سے امتزاج ضروری ہے تاکہ مذاہب کے درمیان مکالمے کو مضبوط کیا جا سکے اور سب کے درمیان برداشت اور مثبت ہم آہنگی کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔

خبروں کو فالو کرنے کے لیے سبسکرائب کریں

تمام حقوق امام الطیب کی ویب سائٹ کے لیے محفوظ ہیں 2026