شیخ الازہر: میلادِ نبوی ﷺ کی یاد اُس ہستی کی ولادت کی یاد ہے جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ معزز، سب سے زیادہ رحم دل اور سب سے عظیم ہیں۔
شیخ الازہر: اسلام کی دعوت عالمگیر ہے اور ایک ہمہ گیر رحمت ہے جو بنی آدم کے اخلاقی جوہر سمیت تمام انسانوں کو اپنے دامن میں سمو لیتی ہے۔
شیخ الازہر: عرب اور اسلامی یکجہتی ہی مسئلۂ فلسطین کا واحد حل ہے۔
شیخ الازہر: صہیونیوں اور ان کے پشت پناہوں نے غزہ میں بے گناہوں کو بھوک سے اس حال تک پہنچا دیا کہ ان کی کھالیں ہڈیوں سے جا لگیں۔
شیخ الازہر: ہم عدل اور امن کے داعی ہیں ایسا عدل وامن جو ذلت اور غلامی کو نہیں جانتا۔
شیخ الازہر: ہم ایسے عدل و انصاف کے علم بردار ہیں جو مضبوط ارادے، علم اور دفاعی قوت سے وجود میں آتا ہے، جو ہر اس ہاتھ کو روک دیتا ہے جو زمین، عوام اور مقدسات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔
شیخ الازہر نے فلسطینی بحران کے خاتمے کے لیے عرب و اسلامی یکجہتی کی اپیل کی، اور مصر کے ثابت قدم موقف کی تحسین کی۔
شیخ الازہر نے صدر سیسی سےکہا کہ: ہم فلسطینی کاز کے تحفظ میں آپ کے ثابت قدم موقف اور جبری ہجرت کی سازشوں کو مسترد کرنے پر آپ کی قدر کرتے ہیں۔
شیخ الازہر: اس نسل کے لیے خوش خبریوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نبی ﷺ کی ولادت کی 1500سویں سالگرہ کے موقع پر موجود ہے۔
امامِ اکبر: نبی ﷺ کی ولادت ایک عالمگیر الٰہی پیغام اور اقوام کے درمیان مساوات کے اصول کی ولادت ہے۔
شیخ الازہر: اسلام نے قتل و تخریب میں اسراف کو حرام قرار دیا ہے اور بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے قتل کی حرمت پر سختی سے زور دیا ہے۔
شیخ الازہر: اسلام نے دشمن کے بچوں کے قتل کو بھی حرام کیا ہے، جبکہ صہیونی غزہ کے بچوں کو بھوک سے مار رہے ہیں اور انہیں ایسی آگ میں دھکیل رہے ہیں جو ان کے سروں پر برسائی جائے گی۔
عزت مآب امامِ اکبر، پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخ الازہر نے نبی اکرم ﷺ کی ولادت کے موقع پر صدرِ محترم عبد الفتاح السیسی، جمہوریہ مصر کے عوام، اور عرب و اسلامی امت کے تمام عوام و حکمرانوں کو نیک خواہشات پیش کی ہیں جو سب سے بہتر، سب سے زیادہ معزز، سب سے زیادہ رحم دل اور سب سے عظیم ہستی ہیں، اللہ کی سلامتی و برکتیں آپ پر اور تمام پیغمبروں پر نازل ہوں۔
شیخ الازہر نے جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اپنے خطاب میں، جس میں صدر محترم عبد الفتاح السیسی بھی موجود تھے، کہا کہ نبی ﷺ کی ولادت کسی عام رہنما، عظیم شخصیت، مصلح، قائد یا فاتح بہادر کی ولادت نہیں تھی—اگرچہ یہ سب خصوصیات اور ان سے بڑھ کر سب کچھ ان کی نبوی عظمت میں موجود ہے اور انہیں اس کا بہترین حصہ حاصل ہوا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نبی ﷺ کی ولادت اللہ تعالی کے آخری پیغام کی ولادت تھی، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبیِ خاتم کے طور پر بھیجا، تاکہ وہ اس پیغام کی دعوت دنیا کے مشرق و مغرب میں، تمام انسانوں تک مساوات کے اصول کے ساتھ پہنچائیں۔
شیخ الازہر نے واضح کیا کہ اس مبارک موقع کی خوشبو اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس سال کی عید میلاد النبی ﷺ ایک تاریخی اور عمیق بنیادوں والی یاد ہے۔ یہ یاد نبی ﷺ کی ولادت کے پندرہ سوویں سال کا موقع پر منائی جا رہی ہے، اور یہ اس سالگرہ کی صد سالہ یاد بھی ہے جو صدیوں بعد ہی ایک بار مکمل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: "یہ شاید ہمارے لیے، اس نسل کے افراد کے لیے خوشخبری ہو؛ تاکہ کمزور اور مظلوموں کے دکھوں کو دور کیا جا سکے، اور غم و پریشانی کو مٹایا جا سکے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیری رحمت کے سبب، اور تیری اس رحمت کے سبب جو تو نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے دنیا پر نازل فرمائی۔
شیخ الازہر نے واضح کیا کہ “رحمت” نبی ﷺ کی صفات میں سب سے نمایاں خصوصیت تھی، جو ان کی پوری زندگی میں ان کے تمام اعمال، اقوال اور رویوں میں ظاہر ہوتی تھی چاہے وہ اپنے اہل خانہ، صحابہ، دوست یا دشمنوں کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ وصف خاص طور پر دنیا کے ہر خطے تک پھیلی ہوئی دعوت کے لیے موزوں اور اس کے عین مطابق تھا، جو زمان و مکان کی حدوں سے بالا تر تھی۔ یہ رحمت نبی ﷺ کی رسالت کے عالمی اور ہمہ گیر پیغام کے ساتھ ہم آہنگ تھی، تاکہ انسانوں کے تمام اخلاقی پہلوؤں—ان کے اچھے برے، نیکی و بدی، عدل و ظلم، ہدایت و گمراہی، اطاعت و نافرمانی—کو اپنے دامن میں سمو لے۔
امامِ اکبر نے نبی ﷺ کی رحمت کے ایک نمایاں پہلو پر روشنی ڈالی، اور وہ جنگ کے اسلامی ضوابط۔ ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ اسلام نے جنگ کے لیے سخت اخلاقی اصول وضع کیے جو اس سے قبل انسانیت نے نہیں دیکھے تھے۔ ان اصولوں کے مطابق جنگ صرف ظلم کو دور کرنے تک محدود ہے۔ قتل و تباہی میں اسراف حرام ہے۔ غیر جنگجو افراد جیسے بچے، خواتین، بزرگ اور مذہبی شخصیات کا قتل سختی سے منع ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں کے فقہاء نے ابتدائی دور میں “فقہ السیر” قائم کیا، جو کہ بین الاقوامی قانون کی ابتدائی شکل سمجھی جا سکتی ہے۔ فقہاء نے جنگوں میں یہ اصول وضع کیے کہ قتل و تباہی میں اسراف نہ ہو، اور لڑائی صرف ردِ اعتداء کے دائرے میں ہو، نہ کہ انتقام، نسل کشی یا جعلی برتری کے لیے ہو۔ انہوں نے عربی ادیب مصطفی صادق الرافعی کے قول کا حوالہ بھی دیا: "مسلمان اپنی لڑائی میں ہتھیار اٹھاتے ہیں اور ساتھ اپنے اخلاق بھی رکھتے ہیں، ان کے ہتھیاروں کے پیچھے ان کا اخلاق ہوتا ہے؛ یوں ان کے ہتھیار بھی اخلاقی ہو جاتے ہیں۔"
شیخ الازہر نے واضح کیا کہ اسلام میں جنگ کے بارے میں ان کی گفتگو کا مقصد یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی جنگوں کا ہمارے موجودہ دور کی جنگوں، ان کے اسباب و محرکات، یا میڈیا پر دکھائی جانے والی انتہائی سفاک مناظرچاہے وہ غزہ ہوں، یوکرین ہو، برادر ملک سوڈان ہو یا دیگر خطے سے تقابل کیا جائے جو ایسے لوگوں کو بھی جنگوں میں گھسیٹ لیتے ہیں جن کا ان سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی تقابل کے لیے پہلے دونوں امور میں کسی مشترک وصف کا ہونا ضروری ہے، پھر اسی وصف میں ایک کی برتری ثابت کی جاتی ہے؛ اور یہاں یہ شرط سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس لیے کہ اسلام نے دشمن کے بچوں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے سپاہیوں کو ان کی جانوں کے تحفظ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض تنظیموں نے غزہ کے بچوں کو بھوکا رکھنے پر اکسانا اختیار کیا یہاں تک کہ ان کی کھالیں ہڈیوں سے جا لگیں—پھر جب وہ اس حال کو پہنچے تو جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام نہاد علم برداروں نے ان بچوں کو ایسے جہنم کی طرف دھکیلا جو ان کے سروں پر برسائی گئی، تاکہ ان کے ناتواں جسموں کا بچا کھچا حصہ مٹی، یا مٹی جیسا، بن کر رہ جائے۔
شیخ الازہر نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کے اسباق کو یاد کریں اور اس خطے کی تاریخ، بالخصوص باوقار سرزمینِ فلسطین پر رونما ہونے والے واقعات سے عبرت حاصل کریں، جو جدوجہد اور ثابت قدمی کی ایک درخشاں تاریخ رکھتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب صلیبیوں نے ایک مکمل صدی تک فلسطین پر قبضہ کیے رکھا تو ہزاروں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کو قتل کیا اور صلیبی ریاستیں قائم کیں۔ پھر جب عرب اور مسلمان متحد ہوئے اور بہادر قائد صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں صف آرا ہوئے تو صلیبی جہاں سے آئے تھے وہیں واپس لوٹ گئے، اور زمین اپنے اصل وارثوں کو واپس مل گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واحد اور ناگزیر حل عرب اتحاد میں ہے، جسے اسلامی اتحاد کی پشت پناہی حاصل ہو، جو اسے مزید مضبوط اور سہارا دینے والا ثابت ہو۔
امامِ اکبر نے واضح کیا کہ ہم جنگ یا تصادم کے داعی نہیں، بلکہ ہم عدل، انصاف اور باہمی احترام کے داعی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس عدل و امن کی ہم تبلیغ کرتے ہیں، وہ انصاف اور احترام پر مبنی ہے، اور ان حقوق کے حصول پر مشتمل ہے جو نہ بیچے جا سکتے ہیں، نہ خریدے جا سکتے ہیں، اور نہ سمجھوتہ کیے جا سکتے ہیں۔ یہ عدل وامن ذلت یا غلامی کو قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی وطن یا مقدسات کے ایک ذرّے کو بھی نقصان پہنچانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ عدل و امن ارادے کی قوت، علم، تعلیم، معقول اقتصادی ترقی، مارکیٹ پر کنٹرول، اور دفاعی قوت کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں، جو اپنے مالکان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ ہر حملہ آور کو دوگنا جواب دے سکیں اور کسی بھی ہاتھ کو روک سکیں جو زمین یا عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر امامِ اکبر نے صدرِ مملکت جناب السیسی سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہم جامعۂ ازہر کی جانب سے آپ کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو قوت عطا فرمائے اور آپ کو اس ثابت قدمی میں کامیابی دے جس کے ساتھ آپ فلسطینی مسئلے کو مٹانے کی کوششوں کو مسترد کر رہے ہیں، فلسطینی عوام کے ان کی اپنی سرزمین پر باقی رہنے کے حق کا تحفظ کر رہے ہیں، جبری نقل مکانی کی سازشوں کو قطعی طور پر رد کر رہے ہیں، اور فلسطینی کاز کے تحفظ اور فلسطینی عوام کی حمایت کے حوالے سے مصر کے تاریخی موقف پر مضبوطی سے قائم ہیں۔