عزت مآب امامِ اکبر، پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخ الازہر شریف کی جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے موقع پر گفتگو کا متن ۔

الإمام الأكبر أ.د: أحمد الطيب.png

"بسم اللہ الرحمن الرحیم

سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں ، اور سلام و درود ہمارے آقا  رسول اللہ ﷺ پر، اور ان کے اہل بیت و صحابہ پر ہو۔

معزز جناب صدرِ، عبدالفتاح السیسی، صدرِ جمہوریہ مصر اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔

سامعین کرام

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته۔
"اور اس کے بعد، اپنی تقریر کے آغاز میں مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کے حضور، جنابِ صدر، اور مصر کے معزز عوام، اورعربی اور اسلامی امت کے عوام اور حکمرانوں کو نیک تمناؤں کے ساتھ مبارکباد پیش کروں؛ اس خوشی کے موقع پر کہ ہم خیر البشر، سب سے عظیم، سب سے مہربان اور سب سے بزرگی والے آقا محمد ﷺ کی ولادت کی سالگرہ منا رہے ہیں، اور ان پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر اللہ کی صلوات اور سلام ہو۔"


جنابِ صدر،

محترم سامعین۔

اس پُر بابرکت موقع کی ہواوں اور اس کے لطیف اثرات سے سب سے پہلے جو بات ہم محسوس کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس سال اس کی خوشی ایک ایسا جشن ہے جس کی جڑیں زمانوں کے گہرے اور طویل عرصے میں پیوست ہیں، یعنی یہ ہمارے آقا ﷺ کی ولادت کی ایک ہزار پانچ سو سالہ ولادت کا موقع ہے۔

"تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اللہ کی وحی نازل ہوئی، ہمارے نبی ﷺ کی عمر چالیس سال تھی، اور انہوں نے مکہ مکرمہ میں لوگوں کو دینِ توحید کی دعوت دیتے ہوئے تیرہ سال گزارے، اس کے بعد آپ ﷺ مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے، اور اس وقت آپ کی مبارک عمر 53 قمری سال تھی۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے دس سال قیام فرمایا، اور پھر اللہ کے حضور حاضر ہو گئے جب آپ کی عمر 63 سال تھی۔ ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس سال کی ولادت کی یاد، وہ موقع ہے جس میں ایک ہزار پانچ سو سال مکمل ہو گئے ہیں، اور یہ یاد صرف ہر صدی کے آغاز پر ہی ایک بار آتی ہے۔
اور اے اس نسل کے نوجوانو شاید یہ ہمارے لیے خوشخبری ہو  امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مظلوموں، محتاجوں اور پریشان حال لوگوں کے دکھ اور مشکلات دور فرمائے، اے سب سے مہربان رحم کرنے والے، اور اس رحم کی برکت سے جو آپ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے پوری انسانیت پر نازل فرمائی۔
اور یہ بات واضح اور روشن ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت کسی عام رہنما، عظیم شخصیت، مصلح، فوجی قائد، یا بہادر فاتح کی ولادت نہیں تھی، اگرچہ آپ ﷺ میں یہ سب صفات اور اس سے بھی زیادہ موجود تھیں، جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوی عظمت میں حصہ لیا اور آپ ﷺ کو سب سے زیادہ منور کیا۔  لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت ایک آخری پیغام' کی ولادت تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ذریعے بھیجا، اور آپ ﷺ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ اس کی دعوت پوری انسانیت تک پہنچائیں، دنیا کے ہر کونے میں، 'ایک ہی دعوت اور تمام قوموں اور نسلوں کے درمیان مساوات کے اصول کے مطابق پہنچائیں۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کی تصدیق فرمائی ہے: {اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں اقوام و قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔} [حجرات: 13] اور فرمایا: {ہم نے آپ ﷺ کو سب انسانوں کے لیے بھیجا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔} [سبأ: 28]۔ اور آپ ﷺ نے خود بھی فرمایا: 'میں تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں، اور انبیاء میری ذات پر ختم ہو گئے ہیں۔

اور چونکہ اس پاک نبی ﷺ کی دعوت وسیع دائرے کی تھی، یعنی یہ دنیا کے تمام لوگوں کے لیے تھی، چاہے ان کے زمانے، مقامات، حالات یا استعدادیں مختلف ہوں، اس لیے یہ منطقی بات ہے کہ اس دعوت کے لیے نبی ﷺ کو جسمانی اور روحانی طور پر خصوصی تیاری کے مراحل سے گزارا گیا، ، تاکہ وہ اس بھاری ذمہ داری کو سنبھال سکیں جو ان کے کاندھوں پر رکھی جائے گی: {بے شک ہم تم پر بھاری فرمان نازل فرمائیں گے۔ بے شک رات کا اٹھنا سخت پامال کرتا ہے اور زبان سے سیدھی بات نکالتا ہے [المزمل: 5-6]۔

"اور واقعی، 'رحمت' کی صفت آپ ﷺ کی تمام خوبیوں میں سے ایک اہم صفت تھی، اور چونکہ یہ ہر انسان پر رحمت تھی، اس لیے یہ دنیا کے تمام خطوں تک پھیلی دعوت کے لیے سب سے موزوں اور مناسب صفت تھی، جو وقت اور جگہ کی حدود سے بالاتر تھی۔ یہی صفت نبی ﷺ کی رسالت کے عالمی اور جامع پیغام کے لیے موزوں تیاری اور اہلیت کا مظہر تھی۔"
پس یہاں ایک عالمی، جامع دعوت موجود ہے، جس کے ساتھ ایک عالمی رحمت بھی ہے، جو انسانوں کے تمام اخلاق، خواہشات اور اعمال کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے؛ چاہے وہ نیکی یا بدی، بھلائی یا برائی، انصاف یا ظلم، ہدایت یا گمراہی، اطاعت یا نافرمانی ہو، یا انسانوں کی فطرت اور رویوں میں پائی جانے والی دیگر تضادات ہوں۔ جب ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں: {ہم نے آپ ﷺ کو سب انسانوں کے لیے بھیجا۔} [سبأ: 28]، تو ہم یہ بھی پڑھتے ہیں: {ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے صرف رحمت کے طور پر بھیجا۔} [الأنبیاء: 107]، اور یہ بھی پڑھتے ہیں: {بے شک تمہارے پاس تم میں سے رسول تشریف لائے،تمہارا تکلیف اور مشقت اور تکلیف میں پڑھنا ان پر سخت گراں ہے وہ تمہارے لیے بڑے آرزو مند رہتے ہیں مومنوں کے لیے نہایت شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں [التوبة: 128]، اور فرمایا: {پس اللہ کی رحمت کے سبب آپ ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔} [آل عمران: 159]۔ اور آپ ﷺ کی مبارک حدیث میں بھی آیا ہے: 'میں تو صرف رحمت کا تحفہ ہوں۔
معزز حاضری حضرات،

جو شخص اس رحم دل نبی ﷺ کی سیرت پر غور و فکر کرتا ہے، وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ 'رحمت' کی صفت آپ ﷺ کی وہ اہم خصوصیت ہے جو آپ کے تمام افعال، اقوال اور رویوں سے ظاہر ہوئی، چاہے وہ آپ کے اہل خانہ، صحابہ، دوست یا دشمن کے ساتھ ہوں، اور یہ تمام عمر مبارکہ پر محیط ہے۔ اور اگرچہ اس دعوے کی تصدیق یا اس کے ثبوت کے لیے سیرت ﷺ سے مثالیں دینا اس پیپر/ گفتگو کی طاقت سے باہر ہے، تاہم اس موقع پر ضروری بات یہ ہے کہ ہم وہ 'جنگ کے قوانین' دیکھیں جو نبی اسلام ﷺ نے قائم فرمائے، اور یہ کیسے قرآن کریم کی اس آیت کی تصدیق کرتے ہیں: {ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔} [الأنبیاء: 107]" 
اس مقام پر بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لے کر آج تک ‘جنگیں’ عموماً تشدد، جارحیت اور دونوں متحارب فریقوں کے باہمی قتل و غارت کا میدان رہی ہیں، اور یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں سختی، فریب، جھوٹ اور دھوکے کو سراہا جاتا ہے، جبکہ میدانِ جنگ میں رحم دلانہ رویّہ قابلِ تحسین نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ اسلام میں بھی جنگ اسی بنیاد پر لڑی جائے، اور اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں پر اس بابت نہ کوئی ملامت ہوتی اور نہ ہی کوئی الزام۔ لیکن خاتم اور ابدی شریعت نے اس باب میں ہمیں ایسے سخت اور واضح اصول عطا کیے جن کی مثال انسانیت نے اپنے طویل تاریخی سفر میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اسی طرح مسلمانوں کے علما اور ائمہ نے کتابُ اللہ اور سنتِ نبوی ﷺ سے ماخوذ ایسے تشریعی احکام پیش کیے جو فقہِ جہاد، جنگ کے قواعد و ضوابط اور اس کے قوانین سے متعلق ہیں؛ جن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جنگ میں کیا واجب ہے اور کیا ممنوع، کیا جائز ہے اور کیا حرام، نیز امن کے معاہدات، صلح، قیدیوں، معاہدوں، امان کے احکام، اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات سے متعلق تمام امور چاہے حالتِ امن ہو یا جنگ تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ ان تمام احکام کے بیان کے لیے ایک مخصوص 'فقہ' وجود میں آئی جو اسلام کے ابتدائی زمانے میں وجود میں آئی اور جسے فقہ  'سیر' کہا جاتا ہے۔ اس علم کی قدیم ترین تصانیف میں دو کتابیں اہم ہیں: 'السیر الصغیر' اور 'السیر الکبیر'، دونوں امام فقیہ محمد بن حسن الشیبانی کی تصنیف ہیں؛ جو دوسری صدی ہجری کے فقہا میں سے ہیں، اور جدید قانونی مطالعات میں انہیں بین الاقوامی قانون کے اولین مؤلف کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ انہوں نے اپنی اس پیش قدمی میں ڈچ عالم گروسِیس سے صدیاں پہلے کام کیا، جسے اس کے دور میں فادر آف بین الاقوامی قانون ' کہا جاتا تھا۔ چوتھی صدی ہجری کے آغاز تک امام سرخسی نے شیبانی کی اس کتاب پر تفصیلی شرح لکھی، جو 1971ء میں قاہرہ میں پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جن کے صفحات کی تعداد دو ہزار دو سو پچانوے (2295) ہے، اور یہ تمام صفحات بین الاقوامی تعلقات کے احکام، امن اور جنگ سے متعلق ہیں۔
اور بعض محققینِ تراث ذکر کرتے ہیں: 'کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بین الاقوامی قانون کے علماء اور اس کے ماہرین نے جرمنی کے شہر گیوٹِنگن میں ایک انجمن قائم کی جس کا نام تھا: "انجمن الشیبانی برائے بین الاقوامی حقوق "، اور اس کی صدارت کے لیے عظیم مصری فقیہ، مرحوم عبد الحمید بدوی کو منتخب کیا گیا۔ اس انجمن کا مقصد شیبانی کو متعارف کروانا، اور بین الاقوامی اسلامی قانون کے احکام سے متعلق ان کے نظریات اور تصانیف کو فروغ دینا ہے۔'
اس بیش قیمت علمی ذخیرے میں جو احکام ہیں ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے والا بھی جان سکتا ہے، کہ ان میں یہ بات نمایاں ہے کہ اسلام میں قتل کی اجازت صرف جارحیت کو روکنے کے لیے ہے، اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اصل تعلق امن کا ہے، یہاں تک کہ ان پر کوئی ظلم یا زیادتی کی جائے۔ ایسی صورت میں جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے، تاکہ فضیلت کو اس بات سے بچایا جا سکے کہ اس پر رذیلت غالب آ جائے، اور بدعملی اور پست اخلاقی کا غلبہ نہ ہو۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ان لوگوں کو (جنگ کی) اجازت دی گئی ہے جن سے جنگ کی جا رہی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم ہوا، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے تھے: ہمارا رب اللہ ہے۔} [الحج: 39–40]۔ 
اور مسلمانوں کے فقہائے کرام نے فقہِ جنگ میں متفقہ طور پر یہ اصول بیان کیا ہے کہ قتل و خونریزی، تباہی اور نقصان پہنچانے میں حد سے تجاوز حرام ہے، اور جنگ کا دائرہ صرف 'جارحیت کا ردّ' ہونا چاہیے، نہ کہ انتقام، نسل کشی یا جھوٹے اقتدار کے لیے جارحیت تک پھیل جائے۔ یہ سب دشمن کے خلاف جرائم اور برائیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔} [البقرہ: 190] ۔
 اور اس آیت میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ دشمن سے قتال کا مقصد صرف ’سبیلِ اللہ‘ ہو؛ یعنی اللہ کی شریعت اور اس کے حکم کے مطابق جارحیت، ظلم، جبر، تکبر اور دوسروں پر بالادستی کے مقابلے میں کھڑا ہونا۔ قتال کو کسی گھٹیا دنیوی لالچ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، جیسے استعمار، تسلط، دوسروں کی سرزمین پر قبضہ، یا ان کے وسائل اور دولت پر غلبہ حاصل کرنا، یا ایسے ہی دیگر اسباب و محرکات، جنہوں نے بیسویں اور اکیسویں صدی میں—جو تکنیکی و سائنسی ترقی، آسودگی، امن اور حقوقِ انسان کے دعووں کی صدیاں کہلاتی ہیں—فضول، ظالمانہ اور بے مقصد جنگوں کو بھڑکایا ہے اور اب تک بھڑکا رہی ہیں۔ اور آیت میں جانوں کے ضیاع میں اسراف اور حد سے بڑھنے سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ کھلا ظلم ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا، اس سے نفرت رکھتا اور اسے حرام قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: {اور اگر تم بدلہ لو تو اسی حد تک لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو۔} [نحل: 126]۔
اور شریعتِ اسلام میں جنگ کے سلسلے میں جو بات خاص طور پر توجہ کھینچتی ہے، وہ دشمن کی آدمیت اور اس کی انسانیت کا احترام ہے، چاہے وہ قتل کرے یا خود قتل کیا جائے۔ اس حقیقت کا اظہار نبی کریم ﷺ کی اس دعا سے ہوتا ہے جو آپ ﷺ قتال کے آغاز سے پہلے فرمایا کرتے تھے، جس میں آپ ﷺ کہتے تھے: ’اے اللہ! ہم بھی تیرے بندے ہیں اور وہ بھی تیرے بندے ہیں، ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں؛ اے اللہ! تو انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔
اور آپ حضرات اس عجیب و غریب انسانی شرافت پر غور کیجیے جو “انسانی اخوت” کی رعایت میں جلوہ گر ہے؛ کہ دشمن تک کو یہ تسلیم کیا گیا کہ وہ تخلیق میں اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مسلمانوں کا شریک ہے، اور اس کے بھی ایسے حقوق ہیں جن کی پاسداری لازم ہے، حتیٰ کہ اس حالت میں بھی جب وہ اپنے ایمان اور عقیدے کے دفاع میں اپنی جان نچھاور کر رہا ہو۔ یقیناً یہ ایسی عظیم شرافت ہے جو نہایت نایاب ہے بلکہ ناممکن ہے کہ اس کا بوجھ کوئی دل اٹھا سکے یا اسے برداشت کر سکے، سوائے اس عظیم نبی کے دل کے، جن پر اللہ کی رحمتیں اور سلام نازل ہوں۔
اور اس سلسلے میں آپ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ اُس دشمن کو قتل کرنا حرام ہے جو جنگ میں شریک نہ ہو اور میدانِ معرکہ میں ہتھیار نہ اٹھائے، جیسے بچے، عورتیں، بوڑھے، خانقاہوں اور خانقاہی عبادت گاہوں میں رہنے والے مذہبی افراد، معذور لوگ، کاشت کار اور دیگر افراد۔ اسی طرح عمارتوں اور تنصیبات کو منہدم کرنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہے، خصوصاً عبادت گاہوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، عوامی سہولتوں اور دیگر ایسی چیزوں کو جن کا علم سب کو ہے۔
اور اس نہایت نازک موضوع کا خلاصہ وہی ہے جو عربی زبان کے ادیب مصطفیٰ صادق الرافعی نے کہا کہ: “مسلمان اپنی جنگوں میں ہتھیار بھی اٹھاتے ہیں اور ان کے ساتھ اخلاق بھی لے کر چلتے ہیں؛ ان کے ہتھیاروں کے پیچھے ان کے اخلاق ہوتے ہیں، اور اسی طرح خود ان کے ہتھیار بھی اخلاق کے حامل ہو جاتے ہیں۔” اور بات کو وہ حکمت سے قریب تر ایک نتیجے پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں: “مسلمانوں کی تلواروں کے بھی اخلاق ہوتے ہیں۔”
محترم حاضرینِ محفل
اسلام میں “جنگ” کے موضوع پر اس مختصر کلام کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مسلمانوں کی جنگوں کا ہمارے موجودہ دور کی جنگوں سے، ان کے اسباب و محرکات سے، یا ان مناظر سے موازنہ کیا جائے جو ذرائع ابلاغ غزہ، یوکرین، ہمارے برادر ملک سوڈان، یا دیگر ایسے خطوں سے دکھاتے ہیں جنہیں ایسی جنگوں میں گھسیٹا جا رہا ہے جن سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ اس لیے کہ دو چیزوں کے درمیان موازنہ اسی وقت درست ہوتا ہے جب وہ پہلے کسی مشترک وصف میں یکساں ہوں، پھر اس وصف میں ایک کو دوسرے پر ترجیح حاصل ہو—اور یہ شرط اس معاملے میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ آخر کس طرح ایسا موازنہ درست ہو سکتا ہے ایک ایسے نظام کے درمیان جو اپنے دشمن کے بچوں کے قتل کو حرام قرار دیتا ہے، اور اپنے سپاہیوں پر ان کی جانوں کی حفاظت کی ذمہ داری عائد کرتا ہے، اور ایک ایسے نظام کے درمیان جو غزہ کے بچوں کو بھوکا مارنے پر تُلا ہوا ہے، یہاں تک کہ جب ان کی کھالیں ہڈیوں سے جا لگتی ہیں تو جمہوریت اور انسانی حقوق کے علم بردار انہیں اس جگہ بہلا پھسلا کر لے جاتے ہیں جہاں ان کے سروں پر بارود کی جہنم انڈیلی جاتی ہے، جو ان کے نحیف جسموں کو مٹی یا مٹی جیسا بنا دیتی ہے۔ اور کیا اہلِ عقل کی عقل اور اہلِ حکمت کی حکمت میں یہ بات درست ہو سکتی ہے—جیسا کہ امام شیخ ابو زہرہؒ کہتے ہیں—کہ خیر و شر کے درمیان، یا نور و ظلمت کے درمیان، یا فضیلت و رذیلت کے درمیان کوئی موازنہ قائم نہ کیا جائے۔ اور اللہ متنبّی پر رحم فرمائے، جنہوں نے اسی معنی کو شعر کی صورت میں یوں بیان کیا:
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تلوار کی قدر گھٹ جاتی ہے جب یہ کہا جائے کہ تلوار لاٹھی سے زیادہ تیز ہے؟
محترم حاضرینِ مجلس
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کے اسباق کو یاد کریں اور اس خطے کی تاریخ کے واقعات سے عبرت حاصل کریں، خصوصاً غیرت مند سرزمینِ فلسطین سے، جو جدوجہد اور استقامت کی درخشاں تاریخ سے بھری ہوئی ہے۔ جب صلیبیوں نے ایک پوری صدی تک اس پر قبضہ جمائے رکھا، انہوں نے ہزاروں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کو قتل کیا، اور صلیبی ریاستیں قائم کیں۔ یہاں تک کہ جب عرب اور مسلمان متحد ہو گئے اور بہادر قائد صلاح الدین ایوبیؒ کی قیادت میں صف آرا ہوئے، تو صلیبی وہیں واپس چلے گئے جہاں سے آئے تھے، اور زمین اپنے اصل وارثوں کو لوٹ آئی۔
اور میرا گمان نہیں کہ آج کوئی اس بات میں شک کرے کہ واحد حل—جس کے سوا کوئی حل نہیں—عرب اتحاد میں ہے، جسے اسلامی اتحاد کی پشت پناہی حاصل ہو، جو اسے قوت دے اور اس کی کمر مضبوط کرے۔ ہم یہ بات کہتے ہیں اور ساتھ ہی اس پر زور دیتے ہیں کہ—اللہ گواہ ہے—ہم جنگوں اور تصادم کے داعی نہیں، بلکہ ہم عدل، انصاف اور باہمی احترام کے داعی ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؟ جبکہ ہمارے نبیِ کریم ﷺ نے ہمیں دشمن سے مقابلے کی تمنا کرنے سے منع فرمایا، اور یہ حکم دیا کہ ہم اللہ سے عافیت طلب کریں۔ اور جس عدل و سلام کی ہم دعوت دیتے ہیں، وہ ایسا عدل و سلام ہے جو انصاف اور احترام پر مشروط ہو، اور ان حقوق کی بازیابی پر قائم ہو جو نہ بیچے جا سکتے ہیں، نہ خریدے جا سکتے ہیں، اور نہ ہی ان پر کوئی سودے بازی ہو سکتی ہے۔ ایسا عدل و سلام جو نہ ذلت کو جانتا ہو نہ غلامی کو، اور جو وطن اور مقدسات کی مٹی کے ایک ذرّے تک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دے۔ ایسا عدل و سلام جو مضبوط ارادے، علم و تعلیم، درست معاشی ترقی، منڈیوں پر مؤثر کنٹرول، اور ایسے دفاعی سازوسامان سے وجود میں آتا ہے جو اپنے حاملین کو بھرپور جواب دینے اور ہر اس ہاتھ کو روکنے کے قابل بنائے جو زمین اور قوم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔
اور آخر میں، جناب صدر!

ہم جامعۂ ازہر کی جانب سے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی پشت کو قوت عطا فرمائے، اور آپ کو اس ثابت قدم موقف پر کامیابی عطا کرے جس پر آپ گامزن ہیں: فلسطینی قضیے کو مٹانے کی ہر کوشش کو مسترد کرنا، فلسطینی عوام کے اپنے وطن کی سرزمین پر باقی رہنے کے حق کا تحفظ کرنا، جبری بے دخلی کی تمام سازشوں کو قطعی طور پر رد کرنا، اور فلسطینی مسئلے کے تحفظ اور فلسطینی عوام کی حمایت کے حوالے سے مصر کے تاریخی مؤقف سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہنا۔
آپ کی حسنِ توجہ کا شکریہ۔
والسلام عليكم ورحـمتہ اللَّه وبركاتہ

خبروں کو فالو کرنے کے لیے سبسکرائب کریں

تمام حقوق امام الطیب کی ویب سائٹ کے لیے محفوظ ہیں 2026